کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گر پاکستان 1971 سے آج تک بنگلہ دیش کے برابر آبادی میں اضافے کو کنٹرول کر لیتا تو آج ملک کی آبادی تقریباً 15 کروڑ 50 لاکھ ہوتی، جب کہ موجودہ آبادی اس سے تقریباً 10 کروڑ زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً ایک جیسی رہی، انڈیا میں یہ شرح 1.7 فیصد، جب کہ بنگلہ دیش میں 2.7 فیصد رہی، مگر پاکستان اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا۔ یہ فرق محض اعداد و شمار کا نہیں بلکہ قومی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

وزیرِاعلیٰ سندھ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی ہوتا تھا اور اس پر خاندانی منصوبہ بندی کے مؤثر اشتہارات نشر کیے جاتے تھے، جیسے کم بچے خوشحال گھرانہ، مگر وقت کے ساتھ یہ مہمات غائب ہو گئیں اور ریاستی ترجیحات بدل گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک نے آبادی کے مسئلے کو ایک بڑے معاشی چیلنج کے طور پر بروقت تسلیم کیا، مگر پاکستان اس حقیقت کو نہ تو سمجھ سکا اور نہ ہی سنجیدگی سے اس پر عمل کیا۔ ضیاء الحق کے دور میں خاندانی منصوبہ بندی پر بات کرنا مشکل ہو گیا، بعد ازاں جمہوری ادوار میں میڈیا مہمات اور این جی اوز تو متحرک ہوئیں، لیکن ان کا اثر وہ نہ ہو سکا جو ہونا چاہیے تھا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام ایک اہم اقدام تھا جس سے خاندانی منصوبہ بندی سے آگاہی بڑھی، مگر اس کے باوجود پاکستان آج بھی اس مسئلے کے حل کے قریب نہیں پہنچ سکا۔

انہوں نے مسلم ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، ایران، عراق اور ترکی جیسے ممالک میں آبادی میں اضافے کی شرح پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ مذہب نہیں بلکہ پالیسی اور عملدرآمد کا ہے۔

وزیرِاعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ پاکستان کا رقبہ اور وسائل محدود ہیں، جب کہ آبادی میں بے قابو اضافہ ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ اگر بروقت مؤثر فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔