سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پرائمری سرپلس کا ہدف بغیر کسی منی بجٹ کے حاصل کیا اور تمام آئی ایم ایف جائزے کامیابی سے مکمل کیے گئے، جن کی بعد ازاں آئی ایم ایف بورڈ نے بھی منظوری دی
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے نتیجے میں مہنگائی 22 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسی طرح ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ گئی اور ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا ثبوت ہے۔ اب حکومت کا اگلا ہدف نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کرنا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید مضبوط ہوں گے اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر9ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں، جن میں نجی شعبے نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ کئی گروپ اپنی سفارشات دے چکے ہیں، جن پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، جب کہ اگلے ہفتے مزید پانچ گروپ اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ وزیراعظم نے برآمدات پر عائد 0.25 فیصد سرچارج بھی ختم کر دیا ہے۔
اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے اور سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچایا گیا۔معیشت، سفارت کاری اور دفاع کے خلاف منفی بیانیے کا آغاز اڈیالہ جیل میں بیٹھے نام نہاد لیڈر سے ہوتا ہے، جو مسلح افواج کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈین وزیراعظم مودی نے بھی پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کے الفاظ کو دہرایا، جو ملک کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد مذاکرات کے لیے بلانے کے باوجود پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کیا اور بعد ازاں بھی فوج مخالف بیانیہ جاری رکھا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فوج نے جنگ جیتی ہے اور آج بھی افسران اور جوان قربانیاں دے رہے ہیں، مگر پی ٹی آئی اسی منفی بیانیے پر قائم ہے اور پارلیمنٹ میں آ کر بھی قومی اسمبلی کو ملک مخالف بیانیے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو سزا دے کر پاک فوج نے خود احتسابی کی روشن مثال قائم کی، جو پندرہ ماہ کے قانونی عمل کے بعد چارجز کی بنیاد پر دی گئی۔ عمران خان نے اسی شخص کے ذریعے نواز شریف سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف تھانے دار کا کردار ادا کیا۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ سب مکافاتِ عمل ہے اور خود احتسابی کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت معاشی بہتری اور پائیداری کے تسلسل کو یقینی بنائے گی اور پی ٹی آئی کو تباہ کن سوچ کے بجائے تعمیری سیاست اپنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، جس سے صنعتی شعبے کو سہولت ملے گی اور معیشت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ حکومت نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے کیونکہ کارخانے لگانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بنیادی طور پر نجی سیکٹر ہی کی ذمہ داری ہے۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت کا کردار پالیسی سازی، سہولت کاری اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور معیشت مستحکم ہو۔ سیاسی طور پر حکومت کامیابی کی جانب گامزن ہے اور ریاستی ادارے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی مذاکرات کی کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا، جس کے باعث سیاسی درجہ حرارت میں کمی کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔اڈیالہ جیل سے کبھی خیبر پختونخوا میں صحت، تعلیم یا گورننس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی، جب کہ عوام کو درپیش اصل مسائل پر توجہ دینا تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی استحکام، اصلاحات اور نجی شعبے کے اشتراک سے پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وفاق حکومت چاہتی ہے کہ صوبے این ایف سی کے معاملات پر کھلے ذہن کے ساتھ بات کریں۔ حکومت نے بہت ساری اصلاحات آئی ایم ایف کے بغیر بھی مکمل کرنے کا عزم کر رکھا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط اور خود کفیل بنایا جا سکے۔
وزیر مملکت نے مزید واضح کیا کہ آئین میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے اور اگر کوئی جماعت مسلسل ریاست کے خلاف بیانیہ اختیار کرتی ہے تو نوبت آئینی کارروائی تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور تعمیری مذاکرات ہی ملک کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہیں۔







