27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں 12 پاکستانی شہید ہوئے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔ افغان طالبان کی حکومت سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو لگام دے۔ 40 سال افغانوں کی مہمان نوازی کا صلہ آج دنیا کےسامنے ہے۔ دہشت گردوں کو لگام دیں، ہم ان کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم پر صدر مملکت، نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان و اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالتوں کے قیام سے بے نظیر کی روح آج بہت خوش ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کا خواب 19 سال بعد پورا ہوا۔ میثاقِ جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر موجود تھا۔ اختلاف کرنا اپوزیشن کا حق ہے، جس کا ہم احترام کرتے ہیں، لیکن دشنام طرازی اور گالم گلوچ سے ہٹ کر ہمیں ملک کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو سے مکمل اتفاق ہے کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق بھی مضبوط ہوگا۔ وہ تمام اقدامات جن سے وفاق مضبوط ہوگا، میں ان کا حامی ہوں۔ ایوان نے آج اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، جس پر میں تمام ارکانِ اسمبلی کا مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے رکھا گیا۔ پاکستان نے داخلی محاذ کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جرات مندانہ فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کا دنیا میں مقام بلند ہوا۔ پاکستان کو عسکری اور سفارتی محاذوں پر جو عزت ملی، اس کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا پوری قوم نے سراہا۔ پاکستانی قوم عظیم قوم ہے جو اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا تو اسے پوری قوم نے سراہا، جس کو آج آئینی کا حصہ بنادیا ہے،  فیلڈ مارشل کا عہدہ صرف بری نہیں بلکہ بحری اور فضائی سربراہان بھی ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ واناکیڈٹ کالج حملے نے اے پی ایس حملے کی یاد تازہ کردی۔ حملہ آوروں میں افغان باشندے بھی شامل تھے، تاہم اساتذہ اور طلبا کو بحفاظت نکالا گیا، جس پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن میں حصہ لینے والے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو قوم کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اسلام آباد کی کچہری میں دہشت گردی کے اندوہناک واقعے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ جعفر ایکسپریس کے واقعے میں بھی انڈیا، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادر جوان اور افسر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تاکہ قوم کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ صوبے مضبوط ہوں تو وفاق مضبوط ہوگا، چاروں اکائیوں کے اتحاد سے ہی پاکستان وجود میں آیا ہے۔

 انھوں نے واضح کیا کہ اٹھارویں ترمیم یا این ایف سی میں کسی بھی تبدیلی کے لیے مشاورت ضروری ہے اور بغیر مشاورت تبدیلی قابل قبول نہیں۔ صوبوں کی ترقی حکومت کے لیے باعثِ خوشی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ ایسی چیزوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو پاکستان اور وفاق کو مضبوط کرتی ہوں؛ چاہے وہ کسی بھی صورت اچھی کیوں نہ لگے، اگر وفاق کو کمزور کرے تو وہ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ایک بڑا معاشی منصوبہ ہے، مگر اگر اس سے وفاق کمزور ہوگا تو وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج اور رینجرز کے اخراجات فی الحال وفاق برداشت کرتا ہے، تاہم اس معاملے پر صوبوں کے ساتھ الگ نشست کی جائے گی اگر اتفاق نہ ہوا تو پھر متعلقہ راستہ اختیار کیا جائے گا  اشارہ اخراجات کی تقسیم کی طرف تھا۔

آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بیٹھ کر کئی امور طے کرنے ہیں، کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے آئینی واضحیت نہیں ہے اور اس پر صدارتی آرڈیننس آیا ہوا ہے، ہمیں مل کر مسائل حل کرنا ہوں گے اور قوم کے دکھ اور سکھ بانٹ کر آگے بڑھنا ہوگا۔