ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنے اس وعدے سے مسلسل مکر رہی ہے جس کے تحت اسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا پابند ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اب اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ایک طرف افغان حکومت پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے، جب کہ دوسری جانب اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، تاہم طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اگر جماعت اسلامی کے دور میں پیٹرول مہنگا ہوتا تو بوجھ جماعت خود برداشت کرتی، حافظ نعیم الرحمان
صدر مملکت نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون کے ملبے سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔







