پیر کو قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ ہیلپ لائن ون فائیو پر موصول ہونے والی کالز میں سے تقریباً 95 فیصد پر بروقت ردعمل دیا جاتا ہے جس سے کال کرنے والے مطمئن ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ میں کرپشن کے مسئلے کا اعتراف کیا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن میں ملوث افسران اور دیگر اہلکاروں کو دی جانے والی سزاؤں کی تفصیلات بھی فراہم کر دی جائیں گی۔

رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر لاہور اور کراچی میں عورت مارچ منسوخ کیا گیا، تاہم اسلام آباد میں بغیر این او سی کے مارچ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے شرکاء کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں عورت مارچ کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ بغیر این او سی کے مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے شرکاء کو حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فرزانہ باری نے خود تسلیم کیا کہ ان کے پاس این او سی موجود نہیں تھا، جب کہ عورت مارچ کے حوالے سے موصول ہونے والی زیادہ تر کالیں مردوں کی جانب سے کی گئیں۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے 1815 ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے، جس پر اب تک 9 ہزار 534 شکایات درج ہو چکی ہیں، جن میں سے 2 ہزار 719 پر کارروائی کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریڈ زون میں سکیورٹی خدشات کے باعث بعض اوقات داخلے کے راستے محدود کرنا پڑتے ہیں۔

ان کے بقول موجودہ صورتحال میں افغانستان کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار نہیں، بلکہ کم عمر خودکش بمباروں کا ہتھیار ہے، اسی لیے سکیورٹی کے پیشِ نظر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے شہریوں کو اگر کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو اس پر معذرت خواہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کرپشن ہوتی ہے وہاں ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کوہستان سکینڈل، 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل اور بی آر ٹی میٹرو سکینڈل میں بھی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ اداروں کے غلط استعمال پر بعض معاملات میں کورٹ مارشل بھی کیا گیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کو سکیورٹی خطرات لاحق ہیں اور ان پر متعدد حملے بھی ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق جماعت کی دوسری سطح کی قیادت بھی نشانہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے جہاں کسی شخصیت کو خطرات لاحق ہوں، وہاں انہیں بروقت آگاہ کرتے ہیں تاکہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔