ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے قطر میں ہونے والے مذاکرات مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط چھ نومبر کو استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور گزشتہ شام ختم ہوا، جس میں پاکستان نے واضح مؤقف اپنایا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی یا کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور توقع رکھتا ہے کہ افغان حکام اپنی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
🔴LIVE: Spokesperson s Weekly Press Briefing 31-10-2025 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/uFN4BvtiuO
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) October 31, 2025
انہوں نے کہا کہ پاکستان مصالحتی عمل میں اپنا کردار جاری رکھے گا اور چھ نومبر کے مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید رکھتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین پر سرگرم "فتنہ الخوارج" اور "فتنہ الہندوستان" سے متعلق کئی بار ثبوت فراہم کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان سرزمین سے کی جانے والی کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا اور آئندہ بھی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ترجمان نے قطر اور ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک کی ثالثی سے مذاکرات میں مفاہمانہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور مسلح افواج ملک کی سلامتی و دفاع کے لیے ہر وقت تیار اور چوکس ہیں۔
واضح رہے کہ استنبول مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے تحت پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہو چکے ہیں۔







