اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ طالبان حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز کرے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان نے افغانستان کو متعدد سہولتیں اور مراعات فراہم کیں، تاہم اس کے باوجود افغانستان میں دہشت گرد گروہ فعال ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ بلوچستان لبریشن آرمی، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں۔
پاکستانی مندوب کے مطابق افغانستان دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور طالبان حکومت نے ان عناصر کو پناہ دے رکھی ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور ان حملوں میں معصوم شہری شہید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ہمسائے کے طور پر افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھا ہے، لیکن طالبان حکومت دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، دوحہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر جاری حملوں میں اخراجات پہلے دس دنوں میں دس ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
عاصم افتخار نے مزید بتایا کہ 26 فروری کو طالبان حکومت نے بلاجواز پاکستان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کارروائی کے دوران غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد کیا۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن فورسز اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملے کر رہے ہیں۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری کو افغانستان سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔







