اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان کی صورتحال سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کو افغانستان سے لاحق دہشتگردی کے خطرے کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا، پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر ایسے دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے جو وہاں موجود رہ کر سرحد پار کارروائیاں کر رہے ہیں، پاکستان نے افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہمیشہ عملی اقدامات کیے اور عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے افغانستان کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی میں بھی تعاون کیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال صرف پاکستان یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی تک پہنچ رہے ہیں، افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی، انسانی حقوق کی صورتحال، سیاسی شمولیت کا فقدان اور معاشی مشکلات عالمی برادری کے لیے سنجیدہ چیلنج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کے مبینہ روابط پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی خدشات پیدا کر رہے ہیں۔ عاصم افتخار احمد کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسلام آباد کو توقع تھی کہ طالبان افغانستان کی سرزمین کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں گے، تاہم پاکستان کے مطابق مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف واضح اور مؤثر کارروائی نہ ہونے سے پاکستان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشتگرد گروہوں کی کھلے عام مذمت نہ کیا جانا ان کے خلاف کارروائی کے عزم پر سوالات اٹھاتا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان نے افغان عوام کے لیے انسانی امداد، تجارت، رابطوں اور دیگر شعبوں میں تعاون کے ذریعے افغانستان کو خطے کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں دہشتگردی کے مسئلے کو نظر انداز نہ کیا جائے اور افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قیادت میں دوحہ عمل کے آئندہ مرحلے کو عملی نتائج کے حصول کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، افغانستان کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے واضح اہداف، حقیقت پسندانہ حکمت عملی اور جامع طریقہ کار ضروری ہے۔
انہوں نے ’موزیک اپروچ‘ پر عمل درآمد کو بھی افغانستان کو معمول کی صورتحال کی طرف لے جانے کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس میں بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور ان سے پیدا ہونے والے علاقائی خطرات کا ذکر کیا گیا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ اپنے انسانی اور برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے افغانستان میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم پاکستان کی قومی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن اگر پاکستانی شہریوں اور ریاستی سلامتی کو دہشتگردی کے ذریعے خطرہ لاحق رہا تو پاکستان عالمی قوانین کے مطابق اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرے گا۔
اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاسوں میں بھی افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں اور ان کی علاقائی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے حکام نے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کو خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج قرار دیا ہے۔







