نجی نشریاتی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات سے انکار نہیں کرتا اور تین سال قبل بھی اعلیٰ افغان حکام سے طویل بات چیت ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہم نے افغانستان سے درخواست کی تھی کہ کالعدم تحریکِ طالبانِ پاکستان کو پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں، ورنہ ممکن ہے ہمیں برداشت نہ کر کے کارروائی کرنا پڑے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ اُس وقت ایک تجویز سامنے آئی تھی کہ کالعدم عناصر کو کسی تیسرے ملک میں منتقل کیا جائے، جس پر تقریباً 10 ارب روپے کی لاگت کا اندازہ لگایا گیا تھا، مگر اس تجویز میں کوئی پختہ گارنٹی نہ ملنے کے باعث اسے آگے نہیں بڑھایا گیا۔
خواجہ آصف نے باربار زور دیا کہ پاکستان ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے مگر اگر کوئی حل تجویز کیا جاتا ہے تو اس کی ضمانت کون دے گا؟ ان کے مطابق کابل حکومت پہلے بھی اس نوعیت کی ضمانت دینے سے انکاری رہی ہے اور آج بھی اسی رویے پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے کسی صورت معاملات طے نہیں ہوں گے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام سے کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے عناصر کا کنٹرول کریں تاکہ اُن کی جانب سے پاکستان میں حملے نہ ہوں، مگر انہیں چھپے الفاظ میں بتایا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے امریکا کے خلاف لڑائیاں بھی لڑی ہیں، اس وجہ سے کابل بڑے پیمانے پر کارروائی نہیں کر سکتاہے، اسی لیے ری سیٹلمنٹ کی بات اٹھائی گئی تھی۔
خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان کسی بھی طرح پاکستان کے خلاف یا کالعدم گروہوں کا آلہ کار بننے کی کوشش کرے تو اس کا جواب دیا جائے گا اور افغان زمین کا استعمال ہوا تو اس پر کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کالعدم عناصر کے پیچھے افغان حدود تک جا کر بھی جائے گا اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی کا حق رکھتا ہے؛ البتہ اگر افغان حکومت ذمہ داری قبول کرے تو پاکستان اس اقدام کا خیرمقدم کرے گا۔
وزیر دفاع نے بھارت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بعض ثالثی و سہولت کاری کے ذریعے بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حیلے استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ میں بھارت کو جو ناکامی ہوئی، اس کا بدلہ لینے کی کوشش جاری ہے اور بھارت افغانستان میں سہولت کاری کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے حالات کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ وہاں بعض بیانات اور سیاسی جھکاؤ ایسے ہیں جو افغانستان میں بیٹھے عناصر کی ہمت بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شخص کو صوبے کا وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا جس کے بیانات طالبان کے حق میں دکھائی دیتے ہیں، اور اس طرح کی کوششیں ریاست کو کمزور کرنے کی جانب جاتی ہیں جن کا جواب دیا جائے گا۔
علی امین گنڈا پور کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ خاص تعاون نہیں دکھا، ان کے دور میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بڑھی اور ہزاروں افراد بسائے گئے، جن کی سہولت کاری ہوئی—یہ خطرہ یہاں بھی اور افغانستان میں بھی موجود ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع نے کہا ہے کہ افغانستان سے تعلقات بگاڑ کی طرف جا رہے ہیں پہلے بھی ٹھیک نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی ایکسپورٹ کر رہا ہے، اس فضا میں تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا جو ہماری خواہش نہیں، اچھے ہمسائےکی طرح تعلقات ہونے چاہئیں جو وقار کی بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کے جن علاقوں میں دہشت گردپناہ لیتے ہیں مکینوں کوعلم ہوتا ہے، محلےمیں اگر کوئی باہر سے آئے تومجھےتیسرے دن ضرور علم ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان علاقوں کے لوگ خاموش رہیں گےتو یہ نیم رضامندی ثابت ہوگی، پاکستان کے محب وطن شہری کا نقصان نہیں ہونےدیں گے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ بھارت کے بیانات اس بات کی شہادت ہےکہ وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کرے گا، انڈیا نےجو ذلت اٹھائی اوراپنی کھوئی عزت بحال کرنےکیلئے یہ اقدام کرے گا لیکن بھارت کو پہلےسے زیادہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کوجو خوش فہمی یا غلط فہمی تھی وہ نکال دی گئی ہے۔







