شیخوپورہ بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ آج کل عمران خان کی صحت کے حوالے سے غیر ضروری شور مچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر دوبارہ تفصیلی طبی معائنہ کرایا گیا، جس میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے مکمل جانچ کے بعد رپورٹ مرتب کی۔

انہوں نے بتایا کہ معالجین کی ٹیم نے جاری علاج کو تسلی بخش قرار دیا ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن قیادت اور بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو بھی تفصیلی بریفنگ دی جا چکی ہے،طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بینائی سے متعلق قیاس آرائیاں مبالغہ آمیز اور بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر قیدی کو قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرے، اور اسی تناظر میں تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں،کسی کی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں۔

انہوں  نے موٹر ویز اور جی ٹی روڈ کی بندش کو غیر آئینی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت آئین اور قانون کی پاسداری یقینی نہیں بناتی تو وفاق کو آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کارروائی کرنا پڑے گی۔

انہوں نے بیرسٹر گوہر علی خان سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور چیئرمین اپنی جماعت اور صوبائی حکومت کو آئین کی پاسداری کا پابند بنائیں تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں  نے ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کی قیادت میں کیے گئے مشکل مگر ضروری فیصلوں کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور معاشی اشاریے بہتری کی سمت گامزن ہیں،پائیدار معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان چار اکائیوں پر مشتمل ہے جن میں گلگت بلتستان اور کشمیر بھی شامل ہیں، اس لیے تمام اکائیوں کو مل کر قومی استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں  نے اپنے خطاب میں وکلاء برادری کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے بار اور بینچ کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام کی بہتری اور قانونی اصلاحات کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عام شہری کو جلد اور سستا انصاف فراہم کیا جا سکے۔

تقریب کے اختتام پر وزیرِ قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین و قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور قومی مفاد کو ہر معاملے میں مقدم رکھا جائے گا۔