خطاب کے آغاز میں انہوں نے قرآن کریم کی آیت “فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰہِ” تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا حکم ہے کہ مشورے کے بعد جب فیصلہ کر لیا جائے تو اللہ پر توکل کیا جائے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے ملکی تاریخ کے ایک اہم موقع پر عظیم الشان جرگے کا انعقاد کیا ہے، جو قابلِ تحسین قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم چاہتی ہے کہ وزیراعلیٰ، گورنر، اپوزیشن لیڈر اور تمام سیاسی قوتیں ایک پیج پر آئیں، کیونکہ اتحاد ہی مسائل کا اصل حل ہے۔
سراج الحق نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بیس سال کی امریکی-افغان جنگ کے بعد بھی آخرکار مذاکرات کرنا پڑے، اسی طرح دو سالہ غزہ جنگ کے بعد امریکا نے حماس سے بات چیت کی حالانکہ وہ نام تک سننے کو تیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ میں لاشیں گرتی ہیں، بستیاں اجڑتی ہیں، ادارے تباہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم افغانستان سے بیس سال بھی لڑیں تو کوئی فاتح نہیں بنے گا، آخرکار مذاکرات ہی ہوں گے، جو لوگ جنگ کی بات کرتے ہیں، وہ کابل، جلال آباد، پشاور اور اسلام آباد سب کی تباہی چاہتے ہیں۔
سابق امیر جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک خطہ، ایک نسل، ایک زبان اور ایک دین سے جڑے ہیں، لہٰذا انہیں لڑانا دشمنوں خصوصاً امریکا اور انڈیا کی کامیابی ہے، جب کہ ان کا اتحاد دشمن کی ناکامی ہوگی۔
سراج الحق نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کو خیبر پختونخوا کے عوام کی مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبے کی لڑائی میں خیبر پختونخوا کے عوام سینڈوچ بن گئے ہیں۔ سیاست میں اختلافات حسن ہیں، لیکن اداروں کی لڑائی عوام کی بدقسمتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا، امریکا اور کینیڈا جیسے ممالک میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں ہونے کے باوجود جمہوریت کا نظام چلتا رہتا ہے، مگر پاکستان میں سیاسی تلخیاں نظام کو جام کر دیتی ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ دہشت گردی صرف بندوقوں سے نہیں بلکہ سیاست اور معیشت میں بھی ہو رہی ہے۔ یہ سیاسی اور معاشی دہشت گردی اسی وقت ختم ہوگی جب قومی و سیاسی سطح پر یکجہتی پیدا کی جائے۔
انہوں نے کولمبیا، انڈونیشیا اور آئرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دہائیوں تک جنگیں جاری رہیں لیکن ان قوموں نے خود کو سنبھال لیا، پاکستان بھی یہ کر سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں: پاکستان سے تجارت غیر قانونی قرار، افغانستان میں پاکستانی ادویات پابندی عائد کردی گئی
سراج الحق نے کہا کہ ماضی میں وہ بھی اسی نشست پر بیٹھے رہے ہیں جب جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی حکومت تھی، تب تمام سیاسی رہنماؤں نے مل کر وفاق سے بات چیت کی اور صوبے کے لیے 110 ارب روپے کے منصوبے منظور کروائے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی مرکز اور صوبے کو باہمی تعاون کے ذریعے صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ خیبر پختونخوا کو اللہ نے معدنیات سے نوازا ہے، یہ اللہ کی امانت ہے، ہمیں اس صوبے کی خوشحالی کے لیے سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔
آخر میں سراج الحق نے عزم ظاہر کیا کہ وہ امن، ترقی اور صوبائی خودمختاری کے ہر غیرجانبدار اقدام میں شریک ہوں گے۔







