خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو 9 اپریل 2022 سے 9 اپریل 2026 تک کے عرصے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ پاکستان کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 اپریل 2022 کو ایک جمہوری حکومت کو مبینہ طور پر بیرونی سازش کے تحت بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے ذریعے ہٹایا گیا، جس کے بعد ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر اس دوران پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہو جاتی، زرعی، صنعتی اور برآمدی شعبے ترقی کرتے اور سرمایہ کار، نوجوان اور اوورسیز پاکستانی مطمئن ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہو کر تقریباً 2.7 فیصد رہ گئی ہے، جب کہ ملک کی 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے جا چکی ہے۔ ان کے مطابق عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 380 سے 458 روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔
سہیل آفریدی نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ مؤثر اصلاحاتی ایجنڈا اور ان کی توجہ صرف اقتدار کے تحفظ پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بظاہر 21 ارب ڈالر دکھائے جا رہے ہیں مگر یہ زیادہ تر قرض اور عارضی سہارا ہیں، جب کہ تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دوست ممالک نے رقوم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ذخائر 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حالات میں مہنگائی اور بے روزگاری سے متاثر عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں اور روپے کی قدر میں مزید کمی کا خدشہ بھی موجود ہے جس سے قرضوں کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ، آزاد صحافت اور بنیادی شہری حقوق کے لیے پرامن احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 9 اپریل کو لیاقت باغ میں احتجاج کیا جائے گا تاکہ اس دن کے واقعات کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج ایک روزہ ہوگا اور وہ آئینی حق کے تحت پرامن جلسہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم اجازت نہ ملنے کی صورت میں ہر مقام کو جلسہ گاہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اے نے کے پی کے کئی اضلاع کے لیے فلڈ ایڈوائزری جاری کر دی
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کارکنوں کے ساتھ سختی یا غیر انسانی سلوک کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل، بشمول لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج، پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 9 اپریل کو صبح 11 بجے پشاور سے ان کا قافلہ روانہ ہوگا اور مختلف اضلاع سے قافلے اس میں شامل ہوتے جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مون سون بارشوں اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی کنٹنجنسی پلان تیار کر رکھا ہے اور تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جس نے بروقت تیاری کر کے اداروں کو فعال بنایا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
دہشتگردی سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ فوجی آپریشنز نہ پہلے مسئلے کا حل تھے اور نہ آج ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں متعدد بڑے اور ہزاروں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کا حل جامع سیاسی و سماجی حکمت عملی میں ہے۔
انہوں نے وادی تیراہ میں آپریشن کے اعلان پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر واضح حکمت عملی ایسے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض عناصر ملک میں انتشار چاہتے ہیں، تاہم پاکستان تحریک انصاف جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور سیاسی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں اور اس وقت ملک کو شدید سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔
قبائلی اضلاع سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں کے عوام خود کو نظام کا حصہ محسوس کر رہے ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس عمل میں کسی بھی غیر ذمہ دارانہ تبدیلی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوری، آئینی اور پرامن طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔







