لاہور میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب نظام میں خرابی پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن اس وقت 35 ہزار یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے، جب کہ آغوش پروگرام کے تحت بچوں کو تعلیم اور بہتر مستقبل فراہم کیا جا رہا ہے، اس پروگرام کے ذریعے بچے انجینئر اور ڈاکٹر بن رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسی بھی قدرتی آفت یا مشکل کی گھڑی میں پوری جماعت اسلامی رضاکار بن کر میدان میں آ جاتی ہے اور متاثرین کی مدد کرتی ہے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 90 ہزار بچوں کو شہید کر دیا گیا، جب کہ شہدا میں 70 فیصد تعداد بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الخدمت فاؤنڈیشن غزہ کے لیے پچاس امدادی پارسلز بھیج چکی ہے، جو کام ریاست کے کرنے کے ہیں، وہ الخدمت کر رہی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر جماعت اسلامی کے دور میں پیٹرول مہنگا ہوتا تو اس کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے جماعت اسلامی خود برداشت کرتی۔







