روسی فوجی رسد لے جانے والے 4 بحری جہازوں کا قافلہ 7 ستمبر کو شام کی طرطوس بندرگاہ پہنچا۔ اگست میں ماسکو اور دمشق کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روس نے طرطوس بندرگاہ اور حمیمیم فضائی اڈے سے متعلق اپنی سہولیات کے لیے سامان پہنچایا ہے۔
شام نے اگست کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ 18 ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد روس کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت طے پا گئی ہے۔
شامی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت طرطوس بندرگاہ اور حمیمیم فضائی اڈے کو مشترکہ تربیت اور استعداد بڑھانے کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ شہری امور کا انتظام شام کے پاس ہوگا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شامی صدر احمد الشرع بھی دونوں فوجی مراکز کے مستقبل پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رائٹرز کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کی تصدیق کے مطابق روسی مال بردار جہاز اسپارٹا طرطوس بندرگاہ میں بحریہ کے رسدی جہاز اکادمک پاشین کے ساتھ لنگر انداز ہوا، جبکہ روسی ٹینکر جنرل اسکوبیلیف ساحل سے دور موجود رہا۔ اسپارٹا طویل عرصے سے شام میں روسی فوجی رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ دونوں بحری جہاز مغربی پابندیوں کی زد میں ہیں۔
روس نے شام کی 13 سالہ خانہ جنگی کے دوران سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے فوجی مداخلت کی تھی، تاہم 2024 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ماسکو کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہوگیا۔
اس کے بعد روس نئی شامی حکومت سے تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سابق سوویت یونین سے باہر اپنے واحد 2 فوجی مراکز کو محفوظ رکھا جا سکے، جبکہ دمشق ماسکو میں مقیم بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔







