سیکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی سے علاقے میں تخریب کاری کے ایک بڑے نیٹ ورک کو ناکام بنا دیا گیا۔
شمالی بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں کلی سلطان، اجرم، دینار اور گیلو میں دہشتگردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت سے متعلق موصولہ خفیہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ کاؤنٹر ٹیررازم آپریشن کیا۔
سیکیورٹی فورسز نے دونوں اضلاع میں دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو ایک ساتھ نشانہ بنایا۔
کارروائی کے نتیجے میں ’فتنة الہندوستان‘ کے 6 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ آپریشن کے دوران ’فتنة الخوارج‘ کے 5 مشتبہ دہشتگردوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی سے علاقے میں فعال تخریب کار عناصر کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور مختلف دہشتگرد تنظیموں کے مبینہ باہمی گٹھ جوڑ اور نیٹ ورکس کا بھی پتا چلا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بروقت اور مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں دہشتگردوں کی جانب سے امن و امان کو نقصان پہنچانے، محفوظ ٹھکانے قائم کرنے اور سیکیورٹی اہلکاروں و عام شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی۔
یہ آپریشن بلوچستان میں ’فتنة الہندوستان‘ (BLA) اور ’فتنة الخوارج‘ (TTP) کے اتحاد اور غیر ملکی سرپرستی میں قائم دہشتگرد نیٹ ورکس سے درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست دہشتگردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان بھر میں ریاست کی حاکمیت مکمل طور پر قائم ہے اور یہ آپریشن ان غیر ملکی پراکسیز کے لیے واضح پیغام ہے جو صوبے کے امن کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے تمام عناصر کا بلاامتیاز تعاقب کیا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔







