آخر پاکستان ہی کیوں؟

دنیا میں کئی بڑے ممالک ہیں، کئی بڑی طاقتیں بھی موجود ہیں، لیکن جب امریکہ اور ایران جیسے سخت حریف آمنے سامنے آئے تو درمیان میں جو نام بار بار سامنے آیا وہ پاکستان تھا۔

پاکستان پر امریکہ اور ایران دونوں کا اعتماد تین عملی وجوہات کی بنیاد پر ہے۔

پہلا یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کرتا رہا ہے۔ پاکستان 2004 سے میجر نان نیٹو الائے ہے۔

اس کے تحت پاکستان امریکہ کے ساتھ انسداد دہشت گردی، انٹیلیجنس شیئرنگ اور افغانستان جنگ کے دوران لاجسٹک سپورٹ میں شامل رہا۔ 2011 کے بعد تعلقات کمزور ہوئے، لیکن انسدادِ دہشت گردی اور خطے کی سیکیورٹی پر رابطے مکمل ختم نہیں ہوئے۔ اسی لیے واشنگٹن کے پاس پاکستان کے ساتھ بیک چینل موجود رہا۔

ایک اہم مثال یہ ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران پاکستان نے امریکہ کو بعض مطلوبہ عسکری اور انٹیلیجنس تعاون فراہم کیا، جن میں افغانستان اور داعش خراسان سے متعلق معلوماتی تعاون شامل رہا۔ اسی وجہ سے امریکہ پاکستان کو مکمل طور پر غیر متعلق نہیں سمجھتا۔

دوسرا اور اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کا ایران کے ساتھ زمینی تعلق ہے۔

پاکستان اور ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بارڈر ٹریڈ، تیل کی اسمگلنگ کے خلاف آپریشنز، اور سیکیورٹی کوآرڈینیشن مستقل بنیادوں پر چلتی ہے۔ ایران کے لیے پاکستان اہم اس لیے بھی ہے کہ یہ اس کی مشرقی سرحد پر واحد بڑا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔

اس کے علاوہ ایران اور پاکستان کے درمیان توانائی منصوبے جیسےایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے بڑے منصوبوں پر مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ بارڈر سیکیورٹی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان  جوائنٹ بارڈر کمیشن بھی موجود ہے۔

تیسرا نقطہ جس کی وجہ سے پاکستان دونوں ممالک سے رابطے میں رہا اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایران کے ساتھ براہِ راست رابطہ لائن موجود ہے جو مغربی ممالک کے پاس نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس ایران کے اندر شیعہ زائرین، مذہبی روابط اور سرحدی قبائلی رابطوں کا نیٹ ورک بھی موجود ہے۔

اسی لیے ایران پاکستان کو مکمل مخالف بلاک کا حصہ نہیں سمجھتا، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوجی بیس موجود نہیں۔

امریکہ پاکستان کو تین وجہوں سے اہم سمجھتا ہے۔ افغانستان کے بارے میں معلومات اور زمینی رابطہ، خطے کی انٹیلیجنس تک رسائی، اور ایک ہی وقت میں ایران، چین اور خلیج سے بات کرنے کی صلاحیت۔

اسی وجہ سے مختلف ادوار میں پاکستان کو بیک چینل فسیلیٹیٹر کے طور پر استعمال کیا گیا، خاص طور پر افغانستان مذاکرات (2020) اور دہشت گردی مخالف کارروائیوں میں۔

پاکستان پر دونوں فریقین کا اعتماد جذباتی نہیں بلکہ آپشنل ہے۔

امریکہ کے لیے یہ ایک رابطہ پوائنٹ ہے، اور ایران کے لیے ایک قریبی، غیر مغربی سرحدی دوست ہے۔