برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی کے ایک حیران کن واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ نشہ کرنے کے بعد جب مجھے لگا کہ میں واپس سوات پہنچ گئی ہوں تو میرے سامنے خوف، چیخیں، گولیوں کی آوازیں اور وہی خون آلود مناظر سامنے آگئے، جنھیں میں بھول چکی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی تھی کہ ماضی کی تلخ یادیں بھلا چکی ہوں مگر ویڈ نے چند لمحوں میں مجھے پھر 15 سال پرانی ملالہ بنا دیا۔ نشے کے اثر سے مجھے شدید گھبراہٹ کا دورہ پڑا۔
ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دوستوں نے مجھے ایک کمرے میں لے جا کر سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن مجھے بار بار الٹیاں ہوئیں۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اسپتال نہ لے جائیں کیونکہ خون میں نشے کا اثر مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس رات میں اس خوف کے سبب جاگتی رہی کہ اگر سو گئی تو پھر کبھی اٹھ نہیں سکوں گی۔
واضح رہے کہ ویڈ دراصل بھنگ یا چرس کا عام نام ہے، جو بھنگ کے پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس میں موجود کیمیکل ٹیٹراہائیڈروکانابینول دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے وقتی طور پر خوشی یا خیالی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
ویڈ کو مختلف طریقوں سے سگریٹ یا جوائنٹ کی شکل میں پیا جاتا ہےاس کے علاوہ ویپنگ یا پائپ کے ذریعے دھواں سانس کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ویڈ کا استعمال غیر قانونی ہے، تاہم کچھ ممالک میں مخصوص شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات، انڈیا، سنگاپور، جاپان، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اس کا استعمال غیرقانونی ہے، جب کہ کینیڈا، ہالینڈ، جرمنی، برطانیہ، امریکا اور تھائی لینڈ میں اسے طبی یا تفریحی کے لیے مخصوص شرائط کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔







