تفصیلات کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد نے اپنے خط میں لکھا کہ پوری انڈسٹری، اور بالخصوص برآمد کنندگان، آٹھ دسمبر 2025 سے جاری ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال نے درآمدی و برآمدی کارروائیوں کو مفلوج کر دیا ہے، جو ملکی معیشت کا بنیادی ستون ہیں۔
کامران ارشد نے خط میں نشاندہی کی کہ پنجاب بھر میں سینکڑوں کارگو گاڑیاں کلیئرنس کی منتظر کھڑی ہیں، جس کے باعث اشیائے خوردونوش سمیت ہر قسم کا ضروری سامان اپنی منزل تک نہ پہنچ پا رہا ہے۔ اس تعطل کے نتیجے میں ملک بھر میں غیر معمولی تاخیر پیدا ہو گئی ہے۔
انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ہڑتال کی وجہ سے صنعت کو بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کا سامنا ہے، متعدد شیڈول جہاز چھوٹ رہے ہیں، جب کہ خام مال کی عدم دستیابی کے باعث پیداواری عمل رک جانے کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔ تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہے۔
چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر یہ سلسلہ رکا نہیں تو بین الاقوامی خریدار برآمدی آرڈرز منسوخ کر سکتے ہیں، جس کے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پنجاب فوری اعلیٰ سطحی مداخلت کرے، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا فی الفور حل نکالا جائے، تاکہ صوبے بھر میں سامان کی آزادانہ اور بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
خط کے اختتام پر ایسوسی ایشن نے حکومتِ پنجاب کے ساتھ مل کر ایک مستحکم اور پیداواری صنعتی ماحول برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے فوری کارروائی کی درخواست کی، تاکہ ہڑتال ختم ہو، صنعتی سرگرمیاں بحال ہوں اور برآمدی سامان کی ترسیل بحال ہو سکے۔
یاد رہے کہ پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے موٹروہیکل آرڈیننس 2025 کے خلاف پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔
ہڑتال نے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ خدمات کو متاثر کیا ہے، جب کہ مسافر پھنسے ہوئے ہیں اور ضروری سامان کی نقل و حرکت میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔






