روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کے لاکھوں متاثرہ فلسطینیوں کی بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت قاہرہ کا دورہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قاہرہ میں ریڈ کریسنٹ مصر، پاکستانی سفارت خانے اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں سے ملاقاتیں شیڈول کا حصہ ہیں، جن میں جاری اور آئندہ کے ریلیف و بحالی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن اب تک غزہ کے 361 میڈیکل اور نان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں میزبانی کر چکی ہے، جن میں سے 49 طلبہ اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دورے کے دوران فلسطینی طلبہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی ہوں گی تاکہ مزید طلبہ کو اکیڈمک اسکالرشپ کے تحت پاکستان لا کر ان کی مکمل کفالت کی جا سکے۔

صدر الخدمت فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد 6 ہزار فلسطینیوں کے لیے ایک ماہ کے فوڈ پیکجز کی تیاری بھی جاری ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ الخدمت فاؤنڈیشن غزہ کے متاثرین کے لیے امدادی و بحالی سرگرمیوں کا سلسلہ ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔