چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 13 اکتوبر کو کیس کی سماعت کے بعد پیر کے روز جاری کیے گئے حتمی حکم نامے میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں انتخابات کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے سیکشن 15 میں 2024 کی ترمیم، آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے مطابقت نہیں رکھتی۔

 نجی اخبار ڈان کی رپورٹ کے  مطابق وفاقی دارالحکومت میں لوکل گورنمنٹ کی مدت 14 فروری 2021 کو ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد آئینی تقاضے کے مطابق 120 دن کے اندر نئے انتخابات ہونا ضروری تھے۔

ای سی پی نے اپنے اختیار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 50، 219 اور 224 کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق  کمیشن نے واضح کیا کہ مخصوص نشستوں کے انتخابات ای سی پی کے مقرر کردہ افسران ہی کرائیں گے اور وہ سیکرٹری یونین کونسل کی تقرری کا پابند نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ انتخابات کا انتخابی پروگرام اس کے مطابق ترتیب دیا جائے۔

حکم نامے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ وفاقی حکومت پہلے سے بلدیاتی انتخابات کرانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ پچھلے مہینوں میں حکومت نے ایک بل کے ذریعے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مزید ترامیم تجویز کی تھیں، جن کا مقصد ایڈمنسٹریٹر کو زیادہ اختیارات دینا تھا۔ حکومت نے ایڈمنسٹریٹر پر عائد چھ ماہ کی پابندی ختم کرنے کے لیے بھی ترمیم کی کوشش کی۔

دوسری جانب اسلام آباد میں حلقہ بندیوں اور انتخابی شیڈول کے معاملے پر بھی ایک طویل عرصے سے تاخیر جاری رہی۔ ای سی پی نے تین مرتبہ انتخابی شیڈول جاری کیا لیکن اسے بعد میں منسوخ کرنا پڑا۔ موجودہ حکومت سے پہلے پی ٹی آئی دور میں بھی بلدیاتی انتخابات مسلسل التوا کا شکار رہے اور آئینی مدت پوری ہونے کے باوجود انتخابات نہ کروائے گئے۔

بعد ازاں پی ڈی ایم حکومت کے دور میں بھی یو سیز کی تعداد کے معاملے پر بار بار تبدیلیاں کر کے انتخابات کو طویل عرصے تک ملتوی کیا گیا۔ پہلے 50 یو سیز تھیں، پھر حکومت نے تعداد 101 کرنے کا مطالبہ کیا۔

 جب 101 یونین کونسلز میں انتخابات کا انتظام مکمل ہوا تو اسے بڑھا کر 125 کرنے کی نئی تجویز سامنے آگئی۔ یہاں تک کہ گزشتہ سال انتخابات کا شیڈول جاری ہوا ہی تھا کہ حکومت نے جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کا نیا خیال پیش کر دیا۔

اسلام آباد میں پہلی اور آخری بار بلدیاتی انتخابات 2015-16 میں ہوئے تھے، جن میں مسلم لیگ (ن) فاتح رہی۔ شیخ انصر عزیز اسلام آباد کے پہلے منتخب میئر بنے تھے۔

ای سی پی کے حالیہ فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار بلدیاتی نظام ایک بار پھر بحال ہوگا۔ اب تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کب جاری کرتا ہے۔