سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، ای سی پی سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد ان کی رکنیت بحال کی گئی۔

جاری کردہ بیان کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137(1) کے تحت تمام منتخب نمائندوں پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اپنی شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کرائیں۔ گوشوارے جمع نہ کرانے والے ارکان کو 16 جنوری 2026 سے قانون سازی اور دیگر ذمہ داریاں انجام دینے سے روک دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ ارکان نے دفعہ 137(3) کے مطابق قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں۔ سینیٹ کے پانچ سینیٹرز جن کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں فوزیہ ارشد، عابد شیر علی، سید کاظم علی شاہ، نورالقدری اور عبد القدوس شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے 17 ارکان میں محمد ادریس، ذوالفقار علی، مصباح الدین، طاہر اقبال، محمد شبیر علی قریشی، پیر امیر علی شاہ جیلانی، مہرین رزاق بھٹو، سعیدہ جمشید، سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر امیر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا، صوفیہ سعید شاہ اور دیگر شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے 27 ارکان میں سید اعجاز حسین بخاری، چوہدری نعیم اعجاز، چوہدری اعجاز احمد، محمد نواز چوہان، عارف محمود گِل، جاوید نیاز، رانا طاہر اقبال، رانا سکندر حیات، میاں محمد منیر، عمران اکرم، محمد عدنان ڈوگر، سردار پرویز اقبال گورچانی، تشفین صفدر، ایمانوئیل اَتھر، سردار محمد عاصم شیر مرکان، علی حسین خان، جعفر علی ہوچا، محمد طاہر پرویز، میاں محمد آصف، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں عالم دار قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افضل گورچانی، روبینہ نذیر اور دیگر شامل ہیں۔

سندھ اسمبلی کے 12 ارکان میں سید عادل عسکری، ملیحہ منظور، شازیہ عمر، سائمہ آغا، آغا شہباز علی درانی اور دیگر شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سات ارکان میں محمد ظاہر شاہ، زر عالم خان، جمیلہ پراچہ، افشاں حسین اور دیگر شامل ہیں، جب کہ بلوچستان اسمبلی کے پانچ ارکان میں محمد زرین خان مگسی اور دیگر شامل ہیں۔