پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو لاہور میں پولیس نے حراست میں لیا، تاہم گرفتاری کے مقام اور انہیں کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا، اس حوالے سے حکام کی جانب سے تفصیلی بیان سامنے آنا باقی ہے۔
علیمہ خان گزشتہ عرصے کے دوران اپنے بھائی عمران خان کی صحت، جیل میں سہولیات اور قانونی معاملات کے حوالے سے متعدد مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتی رہی ہیں۔ رواں ماہ بھی وہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتی رہی ہیں اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر مؤقف پیش کرتی رہی ہیں۔
چیئر مین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مجھے نورین نیازی صاحبہ نے علیمہ خان صاحبہ کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا- ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا۔ ہمارا مقصد اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے، کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے - ایسے میں علیمہ خانم صاحبہ کو گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اسکی شدید مذمت کرتے ہیں-حالات کو خراب کرنے کا یہ پہلا قدم ہے- یہ تمام اقدامات فی الفور بندکیے جائیں۔ علیمہ خان صاحبہ کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں- ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا لائحہ عمل جلد دیگی-
دوسری جانب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹر عارف خان کی سربراہی میں خصوصی میڈیکل ٹیم نے عمران خان کا معائنہ کیا۔
ذرائع کے مطابق طبی ٹیم میں ماہر امراض چشم سمیت مختلف شعبوں کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل تھا، جبکہ ضروری طبی آلات بھی ٹیم کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچائے گئے تھے۔
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور آنکھوں سمیت مختلف طبی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ طبی معائنے کے بعد خصوصی میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی۔
عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات سے متعلق معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے قانونی اور سیاسی بحث کا موضوع بھی رہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رواں ماہ اڈیالہ جیل حکام کو عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے، اہل خانہ سے ملاقات اور دیگر جیل سہولیات سے متعلق متعدد ہدایات جاری کی تھیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں جیل حکام کو عمران خان کو خاندان سے ملاقاتوں کی سہولت دینے، ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کا انتظام کرنے اور روزانہ ورزش و چہل قدمی کے لیے وقت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے طبی سہولیات کی فراہمی کو بھی جیل قواعد کے مطابق یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔
ادھر عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق معاملہ بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق حکم کے تناظر میں ان کی طبی نگہداشت اور اسپتال منتقلی سے متعلق درخواستیں اور عدالتی کارروائی جاری رہی ہیں۔
علیمہ خان کی گرفتاری اور اسی روز اڈیالہ جیل میں عمران خان کے طبی معائنے کی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بانی پی ٹی آئی کی صحت، جیل سہولیات اور ان سے اہل خانہ کی ملاقاتوں سے متعلق معاملات مسلسل عدالتی اور سیاسی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔







