اصلاحات کے منصوبے کی تفصیلات وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ مشاورتی اجلاس میں پیش کی گئیں۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان، سابق وفاقی وزیر اسد عمر، سینئر پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس مقصد کے لیے 2 اعلیٰ سطحی کمیٹیاں قائم کی تھیں، جنہوں نے ستمبر 2024 سے اب تک 18 اجلاس منعقد کیے اور 46 سفارشات میں سے 43 پر مکمل اتفاق رائے حاصل کیا۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت ایچ آر، قانون، انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، انرجی، کلائمیٹ، زراعت و جنگلات، تعلیم اور صحت کے 11 نئے پروفیشنل کیڈرز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ’ہیومن ریسورس اینڈ آرگنائزیشنل ڈیولپمنٹ ڈویژن‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جبکہ وفاقی سطح پر فیصلہ سازی کے مراحل کو 5 سے گھٹا کر 3 کر دیا جائے گا۔
نئے قائم کردہ ’نیشنل ایگزیکٹو سروس‘ (NES) فریم ورک کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کی تمام اسامیوں پر 5 سالہ معاہدے کے تحت کھلے مقابلے کے ذریعے تعیناتیاں کی جائیں گی۔ ان عہدوں پر سویلین افسران، نجی شعبے کے ماہرین اور تعلیمی ماہرین کو مساوی بنیادوں پر حصہ لینے کا موقع ملے گا اور ان کی کارکردگی کا طے شدہ اہداف کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، پولیس سروس اور فارن سروس کو اس این ای ایس ساخت سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
سیکرٹریٹ میں کارکردگی سے مشروط تنخواہوں کا پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا، جبکہ ریٹائرمنٹ پر ماہانہ کٹوتیوں سے فنڈ شدہ 50 لاکھ روپے کی یک مشت رقم اور رعایتی ہیلتھ انشورنس کا پیکیج دیا جائے گا۔
نئی پالیسی میں پاک فوج کے طریقہ کار سے بھی مدد لی گئی ہے۔ سی ایس ایس کے ایک روزہ روایتی انٹرویو (Viva Voce) کے بجائے ’آئی ایس ایس بی‘ (ISSB) کے طرز پر چند روز پر مشتمل اہلیت اور صلاحیت پر مبنی جامع جائزہ لیا جائے گا۔
اس ماڈل میں امیدواروں کی نفسیاتی (Psychometric)، جذباتی ذہانت اور قیادت کی صلاحیتوں کی جانچ کی جائے گی تاکہ ’درست کام کے لیے درست شخص‘ کے اصول پر تعیناتی ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ ترقیوں کا نظام بھی فوج کی طرز پر بورڈز کے ذریعے باقاعدہ معیار کے تحت کیا جائے گا نہ کہ انفرادی پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔
اصلاحات کا ایک اہم پہلو متعلقہ شعبے میں تخصیص (Specialisation) کی بنیاد پر بھرتی ہے، جس سے وہ پرانا طریقہ ختم ہو جائے گا جس میں افسران کو ایسے شعبے میں تعینات کر دیا جاتا تھا جس کا انہوں نے کبھی مطالعہ بھی نہ کیا ہو۔
اگرچہ سی ایس ایس کا بنیادی امتحان ختم نہیں ہوگا، تاہم امیدواروں کو لازمی مضامین، جن میں ایسے، پریسس اینڈ کمپوزیشن، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور کرنٹ افیئرز شامل ہیں، کا امتحان اردو میں دینے کی اجازت ہوگی، جبکہ انگریزی میں بنیادی مہارت کا ابتدائی اسکریننگ ٹیسٹ میں ہی جائزہ لیا جائے گا۔
ابتدائی ٹیسٹ (MPT) کا پاسنگ معیار 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا گیا ہے، جس میں تجزیاتی صلاحیتوں (Analytical Reasoning) کے سوالات شامل کیے گئے ہیں جبکہ نیگیٹو مارکنگ ختم کر دی گئی ہے۔ تمام بھرتیوں کے عمل کو مکمل ڈیجیٹلائز کرکے اس کا دورانیہ 6 ماہ یا اس سے کم کر دیا جائے گا، جبکہ بلوچستان، سندھ، اقلیتوں اور خواتین کے غیر پُر شدہ کوٹے کو بھرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں گے۔
نئے نظام کے تحت ہر وزارت وزیراعظم کے ساتھ سالانہ پرفارمنس معاہدہ کرے گی اور ملازمین کا سال میں 2 بار جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملازمین پر ہونے والے کل اخراجات کا 5 فیصد حصہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے بطور اعزازیہ مختص کیا جائے گا۔
نیشنل مینجمنٹ کورس (NMC) کا دورانیہ 18 ہفتوں سے کم کرکے 10 ہفتے کر دیا جائے گا، جبکہ موجودہ قومی اور تربیتی اداروں کو ضم کرکے ایک ’نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن‘ قائم کی جائے گی۔
ان اصلاحات کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ منظوری کے بعد ایک عمل درآمد کمیٹی ماہانہ بنیادوں پر وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی اور اگلے 120 دنوں کے اندر اس پورے اصلاحاتی پیکیج کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔







