حاقان فیدان نے ترک میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نشانہ بنانے والے حملے انتہائی سنجیدہ معاملہ ہیں، جبکہ ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔

حاقان فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کو بعض مخصوص شعبوں بالخصوص تکنیکی نوعیت کی عسکری ضروریات درپیش ہوسکتی ہیں اور ترکیہ ایسی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یمن میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے مختلف فریقین تک نئی تجاویز پہنچائی گئی ہیں، تاہم ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کا انہیں قبول کرنا ضروری ہوگا۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں فریق بنانا قابل قبول نہیں، مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے معاشی اثرات بھی اب اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ انہیں مزید برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

حاقان فیدان نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے حوالے سے بھی کہا کہ ترکیہ نے دونوں ممالک کو بحیرہ اسود میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور انقرہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد خطے کے متعدد ممالک کی جانب سے ریاض کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جسے سعودی فضائی دفاع نے فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا۔

اردن کی وزارت خارجہ نے ریاض پر حوثی بیلسٹک میزائل حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اردن نے سعودی عرب کے دیگر شہروں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔

مصر بھی سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی مذمت کرچکا ہے۔ قاہرہ نے سعودی عرب کی سلامتی کو مصری اور عرب قومی سلامتی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ مصر نے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ حملوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان لڑائی میں دوبارہ شدت کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستوں پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ان راستوں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل وابستہ ہے، اس لیے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ترکیہ کی جانب سے دفاعی ضروریات پوری کرنے کی پیشکش اور پاکستان، ترکیہ و سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال میں اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم حاقان فیدان نے واضح کیا ہے کہ ترکیہ کی جانب سے ممکنہ تعاون سعودی عرب کی ضروریات اور معاہدے کے دائرہ کار کے مطابق ہوگا۔