اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات حالیہ مہینوں میں مزید بہتر ہوئے ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی روابط اور تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، تہران کی ہمسایہ ممالک سے متعلق پالیسی میں پاکستان کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مشترکہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کو اہمیت حاصل ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ محسن نقوی کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ مفاہمت اور معاہدوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے فریم ورک میں ہوگا۔
اسماعیل بقائی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پاکستانی وزیر داخلہ تہران میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ مذاکرات سے متعلق کوئی خصوصی امریکی پیغام لے کر آ رہے ہیں، وہ کسی ایسے مخصوص پیغام یا تجویز سے آگاہ نہیں ہیں جو اس دورے کے دوران ایرانی حکام تک پہنچائی جانی ہو۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق دورے کا بنیادی محور پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات، سابقہ معاہدوں اور دوطرفہ معاملات پر مشاورت ہے، جبکہ کسی مخصوص امریکی پیغام کی ترسیل سے متعلق انہیں کوئی اطلاع نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ تہران کے مطابق دونوں پڑوسی ممالک تاریخی اور ثقافتی روابط کی بنیاد پر باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی صورتحال اور سفارتی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب محسن نقوی کا دورہ ایران ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کے حوالے سے ماضی میں سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے، تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے موجودہ دورے کو دوطرفہ امور سے متعلق قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی معاملات، باہمی تجارت، اقتصادی روابط اور دیگر مشترکہ امور پر بھی مسلسل رابطہ موجود ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور موجودہ مفاہمت کو عملی شکل دینے کے لیے مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
ادھر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اپنی شرائط قطر اور پاکستان کے ذریعے ثالثی کی کوششوں میں شامل فریقین تک پہنچا دی ہیں، قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
محسن رضائی کے بیان کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ممکنہ عمل کے لیے بعض شرائط پیش کی ہیں، تاہم ان شرائط اور مذاکرات کے حوالے سے حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایرانی حکام نے مختلف مواقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی سفارتی عمل میں ایران کے مؤقف اور شرائط کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
پاکستانی وزیر داخلہ کا تہران دورہ اسی وسیع تر علاقائی سفارتی پس منظر میں ہو رہا ہے۔ تاہم
یوں محسن نقوی کا دورہ تہران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ رابطوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ پہلے سے طے شدہ مفاہمت پر عمل درآمد کے جائزے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ دورے کو کسی مخصوص امریکی پیغام یا ثالثی تجویز کے تبادلے سے جوڑنے کے حوالے سے ان کے پاس کوئی تصدیق شدہ اطلاع نہیں۔







