میڈیکل ذرائع کے مطابق عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں 28 اپریل کو چوتھا انٹرا وٹریئل انجکشن لگایا گیا۔ طریقہ کار سے قبل ماہر امراضِ چشم نے ان کا مکمل معائنہ کیا اور انہیں اس عمل کے لیے طبی طور پر موزوں قرار دیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق آپٹیکل کوہرینس ٹوموگرافی (OCT) ٹیسٹ کے نتائج میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں، جو علاج کے مثبت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انجکشن کا عمل جدید طبی سہولیات اور مائیکروسکوپی گائیڈنس کے تحت نہایت احتیاط کے ساتھ مکمل کیا گیا۔

 یہ پورا عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا، جس کے دوران عمران خان کی حالت مسلسل مستحکم رہی۔ طبی عملے نے علاج سے قبل، دوران اور بعد میں ان کے تمام وائیٹلز کو مانیٹر کیا، جو نارمل ریکارڈ کیے گئے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کامیاب طبی عمل کے بعد مریض کو چند گھنٹوں کی نگرانی میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں ضروری ادویات، احتیاطی تدابیر اور فالو اپ پلان کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ریوائیول پلان کے لیے 173 ارب 78 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی منظوری دے دی

واضح رہے کہ عمران خان اس سے قبل بھی آنکھوں کے علاج کے لیے متعدد بار پمز منتقل کیے جا چکے ہیں، جہاں ان کا علاج تسلسل کے ساتھ جاری ہے، بروقت اور باقاعدہ علاج سے بینائی میں مزید بہتری کا امکان ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسپتال منتقلی کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔