عالمی خبررساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں سوالات اٹھائے گئے کہ کن لوگوں کو لا کر بسا دیا گیا ہے، کیونکہ یہ وہی عناصر ہیں جنہیں ’سوات کے قصائی‘ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے سوات میں قتلِ عام کیا تھا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ماضی میں اس خطے میں ایسی جنگیں لڑیں، جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا، ہم ان کے بغیر بھی رہ سکتے تھے لیکن ان میں کود پڑے اور آج اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو منظم کرنا ہوگا، کیونکہ وہاں سے شدت پسند، جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش داخل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی مقیم افغانوں کو اب واپس جانا ہوگا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کو اپنی پالیسی وفاق کے ساتھ ہم آہنگ کرنی ہوگی، مذاکرات کے حوالے سے الگ موقف قابلِ قبول نہیں۔