عالمی خبررساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں سوالات اٹھائے گئے کہ کن لوگوں کو لا کر بسا دیا گیا ہے، کیونکہ یہ وہی عناصر ہیں جنہیں ’سوات کے قصائی‘ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے سوات میں قتلِ عام کیا تھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ماضی میں اس خطے میں ایسی جنگیں لڑیں، جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا، ہم ان کے بغیر بھی رہ سکتے تھے لیکن ان میں کود پڑے اور آج اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
دیکھیں شہزاد اب ایسا نہیں ہوگا کہ صبح اُٹھیں اور منہ اُٹھا کر پاکستان آ جائیں تندور کھولیں ڈمپر چلائیں تکہ کباب کھانیں پشاور آئیں اور چلے جائیں
— Kippsam Malik (@KeepsamM) October 12, 2025
پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا
اب پاکستان ویسے ہی ٹریٹ کرے گا جیسے پوری دنیا کرتی ہیں ہُن لاڈ شاڈ ختم ۔ خواجہ آصف pic.twitter.com/hFzkpJ2vl3
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو منظم کرنا ہوگا، کیونکہ وہاں سے شدت پسند، جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش داخل ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی مقیم افغانوں کو اب واپس جانا ہوگا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کو اپنی پالیسی وفاق کے ساتھ ہم آہنگ کرنی ہوگی، مذاکرات کے حوالے سے الگ موقف قابلِ قبول نہیں۔







