میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ درخواست شہری غلام مرتضیٰ نے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کے ذریعے دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کے اکاؤنٹ سے غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ٹوئٹس شیئر کی جا رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر ہٹایا اور بلاک کیا جائے۔

درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ دورانِ قید عمران خان کے اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر انتشاری مواد پھیلانے سے روکا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر 4 نومبر کو اس درخواست پر سماعت کریں گے، جس کے لیے رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ عدالت نے عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے، جبکہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر متعلقہ فریقین سے بھی تحریری جواب مانگا گیا ہے۔