سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے مسائل و تجاویز سنی۔

انہوں نے یونیورسٹی کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ پشاور سمیت صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جب کہ وفاق میں بیٹھے کرپٹ عناصر نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایچ پی کے تحت وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں، جب کہ این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے بھی ابھی تک واجب الادا ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر سات برس میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے اور 532 ارب روپے اب بھی باقی ہیں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صوبے کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور اس حوالے سے تمام جامعات میں ڈیبیٹس منعقد کی جائیں۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے سکالرشپس، خصوصی مالی پیکجز اور نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پالیسی شامل کی جائے گی تاکہ روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے غلط فیصلوں نے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم امن و امان کے قیام کے لیے حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے۔

اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ کےپی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں ملک کی جی ڈی پی گروتھ 6.2 فیصد تھی جو اب کم ہوکر 2.6 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کے لیے رعائتی نرخوں پر کھانا فراہم کرنے سے متعلق بھی تجاویز طلب کیں۔

دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب اپ گریڈ کرنے اور اکنامکس، پولیٹیکل سائنس اور آئی ایم اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس کی 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن کا اعلان بھی کیا۔