نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تحریری حکم کے بغیر نہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نجی اسپتالوں کے ڈاکٹرز یا ذاتی معالجین کو معائنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صرف سرکاری اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ بنانے کی مجاز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ میڈیکل بورڈ کے معاملے پر بھی سیاسی اختلافات سامنے آ رہے ہیں اور پاکستان تحریکِ انصاف اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی فراہم کرنے اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت دینے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے تین ڈاکٹروں کے ناموں پر مشتمل خط ارسال کیا تھا، تاہم اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔
طبی سہولیات سے متعلق یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے







