نجی نشریاتی ادارے جیونیوز کے مطابق ڈاکٹر طارق فضل چوہدری  نے کہا کہ اگر جیل کے باہر کارکن قانون ہاتھ میں لیں گے یا پولیس سے دھکم پیل کی کوشش کریں گے تو پھر وہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے جو منگل کی رات پیش آئے۔

ان  کہنا تھا کہ عمران خان مسلسل اداروں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اور انتشار پر مبنی مؤقف اختیار کر کے یہ کس کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس کا جواب انہیں دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جیل کسی سیاسی رہنما کا ہیڈکوارٹر نہیں ہوتا جہاں سے وہ ریاستی اداروں کے خلاف پیغامات یا سوشل میڈیا ہدایات جاری کرے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق صرف اُن افراد کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے نام منظور شدہ فہرست میں شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی اپنی قیادت بھی عمران خان کے بیانیے کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 

ان کے مطابق سلمان اکرم راجا نے بھی واضح کیا ہے کہ عمران خان کے بیانات اُن کی ذاتی رائے ہے، پارٹی کا مؤقف نہیں۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی میں انحطاط کی اصل وجہ یہ بیانیہ ہی ہے جس کا بوجھ پارٹی اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی پالیسی کے خلاف کسی تحریک کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

اس سے قبل جیل حکام بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کا کوئی امکان موجود نہیں۔