پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، انڈیا اور مختلف غیر ملکی پلیٹ فارمز سے عمران خان کی حالت کے بارے میں گھناؤنی اور بے بنیاد افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، جو ایک منظم مہم محسوس ہوتی ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کی خیریت سے متعلق افواہوں پہ پاکستان تحریک انصاف کا رد عمل اور حکومت سے مطالبہ:
— PTI (@PTIofficial) November 27, 2025
افغانستان اور بھارتی میڈیا کے غیر پلیٹ فارمز اور غیر ملکی سماجی رابطے کے اکاؤنٹس سے سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کی خیریت سے متعلق گھناؤنی افواہیں پھیلائی جارہی…
ترجمان کے مطابق حکومت کو اس معاملے پر فی الفور واضح تردید جاری کرنی چاہیے اور عمران خان کے اہلِ خانہ سے فوری ملاقات کروائی جائے تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہوسکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت، سلامتی اور موجودہ حیثیت کے بارے میں سرکاری سطح پر جامع، شفاف اور باضابطہ بیان سامنے لایا جائے، جب کہ اس حساس نوعیت کی افواہیں پھیلانے والوں کی تحقیقات کرکے حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔
پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ قوم اپنے قائد کے بارے میں غیر یقینی یا ابہام کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی، جب کہ عمران خان کی سلامتی، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی تقاضوں کی حفاظت حکومت کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔ پارٹی ان افواہوں کا سدباب کرنے اور حقائق سامنے لانے کے لیے ہر سیاسی اور قانونی قدم اٹھائے گی۔







