رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت اسٹیبلشمنٹ اور اپنے لیڈر کو اعتماد میں لے کر ہی دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ماضی کے رویے کو دیکھیں تو وہ کبھی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں مذاکرات کی باتیں صرف اخباری بیانات تک محدود ہیں، سنجیدہ مذاکرات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کو محمود خان اچکزئی یا کسی بھی فرد پر کوئی اعتراض نہیں، جسے اپوزیشن نامزد کرے گی اسے مان لیا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو کشیدگی نظر آتی ہے وہ میٹنگز میں نہیں ہوتی۔