اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ ایسے ہی واقعات سے بھری پڑی ہے، جہاں وہ اپنے قریبی ساتھیوں کو استعمال کے بعد کنارے لگا دیتے ہیں۔ آج علی امین گنڈاپور کے ساتھ بھی وہی رویہ اپنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے حوالے سے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو ہٹانے یا ان کے خلاف عدم اعتماد کی کوئی بات وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نہیں ہوئی۔ ان کے استعفے یا برطرفی سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات غیر آئینی نہیں، حکومت نے کمیٹی کو تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ جب احتجاج پُرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوا تو وزیراعظم نے خود مذاکرات کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی کہ آزاد کشمیر میں حالات خراب ہوں، بلکہ پُرامن معاہدے پر وزیراعظم نے مذاکراتی ٹیم کو شاباش دی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد برقرار رہے گا اور وزارتوں کے بغیر پیپلز پارٹی کی حمایت ان کی جمہوریت پسندی کی عکاسی کرتی ہے۔ مخالفین کی خواہش کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔


انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں پیپلز پارٹی سے مذاکرات جاری ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات قیادت کی سطح پر حل کر لیے جائیں گے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تاحال وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اعلیٰ پارٹی اور عمران خان کی امانت ہے، جب وہ کہیں گے، میں فوراً عہدہ چھوڑ دوں گا۔ اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات جاری ہے، جس کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کی جگہ سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ بنانے کا امکان ہے، جو اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے عہدے پر فائز ہیں۔

پی ٹی آئی کے ذمہ داران نے تاحال ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم بشریٰ بی بی کے وکیل رائے سلیمان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹائے جانے کی تصدیق کی ہے، جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔