ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اسپتال سے روانگی کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ متعلقہ سیکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے، جبکہ عمران خان کی منتقلی کے روٹ پر بھی خصوصی نگرانی کی گئی۔
اس سے قبل بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی اسپتال منتقلی سے پہلے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی اسپتال آمد کے پیش نظر اسپتال کے اطراف میں بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ اسپتال کے داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ عام ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بعض مقامات پر عارضی طور پر آمدورفت محدود کی گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے لیے مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل 6 رکنی میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ میڈیکل ٹیم کی جانب سے ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ضرورت پڑنے کی صورت میں انہیں اسپتال میں داخل کرنے کے لیے بھی خصوصی انتظامات مکمل رکھے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طبی معائنے کے عمل کے دوران سیکیورٹی اور انتظامی امور کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی، جبکہ اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ برقرار رہا۔
دوسری جانب عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ عدالتی سطح پر بھی زیر بحث رہا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کردی تھی۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے بعد درخواست کا معاملہ بھی قانونی حلقوں میں زیر بحث رہا۔
عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال آمد اور واپسی کے دوران سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت رہے۔ اڈیالا جیل کے اطراف میں بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی بڑھا دی گئی تھی اور عمران خان کی واپسی کے موقع پر جیل انتظامیہ نے خصوصی انتظامات کیے۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کو اڈیالا جیل پہنچنے کے بعد دوبارہ ان کے سیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کی موجودہ صورتحال اور طبی معائنے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مختلف مقدمات کے سلسلے میں اڈیالا جیل میں قید ہیں، جبکہ ان کی صحت، عدالتی معاملات اور جیل میں سہولیات سے متعلق امور گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل سیاسی اور قانونی بحث کا حصہ رہے ہیں۔







