مملکت کے توانائی کے شعبے سے وابستہ ایک ذرائع نے پیر کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر گزشتہ روز دوبارہ حملہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ریاض کے مشرق میں خورَیس کے مقام پر واقع ایک پمپنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اس سے قبل کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے کے نتیجے میں پمپنگ اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد پائپ لائن سے تیل کی ترسیل ایک بار پھر روک دی گئی۔
یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کی جانب سے ایک روز قبل سعودی عرب میں سرکاری آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد سامنے آئی ہے۔ حوثیوں کے دعوے کے مطابق حملوں میں خورَیس میں واقع بنیادی ڈھانچہ بھی شامل تھا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے بعد سے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا جاچکا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل سعودی عرب نے گزشتہ ماہ بھی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو بند کردیا تھا۔ یہ پائپ لائن مملکت کے مشرقی حصے میں واقع بڑے تیل کے میدانوں کو بحیرہ احمر پر قائم ینبع ٹرمینل سے ملاتی ہے۔
تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے تیل کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے اور خلیج سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی برآمد میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو گزشتہ ماہ عراق سے سعودی تیل کی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد بھی بند کیا گیا تھا۔
اجناس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کلیپر کے مطابق پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل 11 ستمبر سے 22 ستمبر تک معطل رہی تھی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے مرکزی سمندری راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
اس صورتحال کے بعد ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن سعودی عرب کے لیے تیل کی ترسیل اور برآمدات کے متبادل راستے کے طور پر مزید اہم ہوگئی ہے، تاہم پائپ لائن پر بار بار ہونے والے حملوں سے سعودی تیل کی ترسیل اور عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔







