امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام اڈے کے خلاف مبینہ دہشت گردانہ منصوبے سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا۔ رائل ایئر فورس فیئرفورڈ اڈے پر B-1 طرز کے 12 بمبار طیارے تعینات تھے، جنہیں گزشتہ عرصے کے دوران ایران پر امریکی فضائی حملوں میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشنل سیکیورٹی کے تقاضوں کے باعث امریکی فوجیوں اور فوجی اثاثوں کی نقل و حرکت کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں تھی، تاہم اس نے تصدیق کی ہے کہ فیئرفورڈ اڈے پر تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکا میں واقع اپنے مرکزی اڈوں پر واپس پہنچ گئے ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد سامنے آئی۔ پینٹاگون نے مزید کہا کہ یہ بمبار طیارے اب بھی امریکی سرزمین سے طویل فاصلے تک حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام ایران سے منسلک ایک مبینہ منصوبے سے آگاہ تھے، جس میں امریکی بمبار طیاروں اور فیئرفورڈ اڈے پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
ایک اعلیٰ سطح کے امریکی عہدیدار کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک شاخ نے مبینہ طور پر اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے برطانوی شہریوں کو بھرتی کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے میں کئی مراحل شامل تھے، جن میں حملے سے قبل اڈے کے قریب ایک علاقے میں توجہ ہٹانے کے لیے کارروائی کرنا بھی شامل تھا۔
امریکی اقدام 6 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے، جن پر فیئرفورڈ اڈے پر ممکنہ حملے کے منصوبے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
ایک امریکی اور ایک برطانوی عہدیدار کے مطابق ممکنہ حملہ گزشتہ اتوار کو ناکام بنا دیا گیا تھا، جب کہ برطانوی حکام نے تحقیقات جاری رکھتے ہوئے تمام مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سازش میں ملوث افراد بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے، جب کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی معاملے میں کسی غیر ملکی فریق کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔
ایران نے اپنے خلاف عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے معاملے پر تہران میں برطانوی سفیر کو بھی طلب کرلیا۔







