نجی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے پارٹی کے اندرونی اختلافات، گروپ بندیوں اور اپنی حکومت کے خاتمے سے متعلق کئی اہم دعوے کیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاعات مل رہی تھیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نام مانگے جا رہے ہیں۔ پارٹی کے مختلف لوگوں نے اجلاسوں میں نام زیرِ بحث لا کر بھیجے اور ان کی اطلاع کے مطابق وزیراعلیٰ کے لیے ناموں پر مشاورت جاری تھی۔

علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ انہیں تقریباً تین ماہ پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کے بقول بابر ایاز، شیخ وقاص اکرم اور دیگر افراد اس بات کے گواہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عہدے کے لیے پارٹی میں نہیں تھے اور بانی پی ٹی آئی کا جو بھی فیصلہ ہوتا ہے، وہ اسے تسلیم کرتے ہیں۔

27 ستمبر کو پارٹی کے پلان پر عمل کریں گے

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ 27 ستمبر کو وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ پارٹی کے لیے نکلیں گے اور پارٹی کا جو پلان ہوگا، اس پر عمل کریں گے۔ ان کے مطابق اس روز جن لوگوں نے قیادت کرنی ہے، ذمہ داری بھی انہی کی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کی تحریک اہم ہے، جبکہ بانی کی رہائی کے بعد اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا حساب لیں گے۔

پارٹی میں گروپ بندیوں اور بیانیوں کا معاملہ

سابق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران انہوں نے پارٹی کے اندر موجود گروپ بندی اور مختلف بیانیوں سے انہیں آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی کے بعض گروپس عجیب و غریب بیانیے بناتے تھے اور بجٹ کے معاملے پر ان کے ارکانِ اسمبلی کو غدار قرار دیا گیا۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جنوری 2025 میں جب انہیں صوبائی صدارت سے ہٹایا گیا تو انہوں نے واضح کردیا تھا کہ وہ حکومت چلائیں گے، تاہم اس کے بعد انہیں بار بار ریلیاں نکالنے کے احکامات دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں پیغام دیا تھا کہ پارٹی کے کچھ لوگ ان کی سیاست خراب کرنا چاہتے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر ان کی سیاست بچائی گئی ہے۔

سہیل آفریدی کو اپنا چھوٹا بھائی قرار دے دیا

سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ ان کے چھوٹے بھائی کی طرح ہیں۔ انہیں ٹکٹ دلوانے میں بھی انہوں نے کردار ادا کیا اور کابینہ میں بھی شامل کیا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ ہیں اور وہ انہیں اون کرتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر اسد قیصر اور شہرام کے بھائیوں سے متعلق کارروائی کی گئی، جبکہ سہیل آفریدی کو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے تبدیل کیا گیا اور پی ایچ ای و ہیلتھ کے افسران کو بھی تبدیل کیا گیا۔

ڈی چوک اور 24 نومبر کے احتجاج پر بھی گفتگو

رہنما پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ یکم اکتوبر 2024 کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد انہوں نے 4 اکتوبر کو دھاوا بولنے کی بات کی تھی۔ ان کے مطابق 4 اکتوبر کو ڈی چوک پہنچنے کا ایک ایجنڈا تھا، جبکہ 24 نومبر کو بھی وہ پارٹی کی ہدایت پر احتجاج کے لیے پہنچے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 24 نومبر کے احتجاج کے دوران تین دن لڑائی کے بعد ڈی چوک پہنچے اور سب کو معلوم تھا کہ بشریٰ بی بی گاڑی میں موجود ہیں۔ حالات خراب ہونے پر وہ بشریٰ بی بی کی گاڑی میں منتقل ہوگئے تھے۔

علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ ڈی چوک سے بشریٰ بی بی کو نکال کر مانسہرہ تک لے جایا گیا، جبکہ اس دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق عمر ایوب اور علی خان سے پوچھا جاسکتا ہے۔

285 ارب روپے کا انڈومنٹ اکاؤنٹ چھوڑا، علی امین

سابق وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وزارتِ اعلیٰ چھوڑتے وقت وہ 285 ارب روپے کا انڈومنٹ اکاؤنٹ چھوڑ کر آئے تھے، جبکہ ان کے مطابق اس وقت اکاؤنٹ میں کم از کم ساڑھے 400 ارب روپے ہونے چاہئیں۔