'پاکستان میٹرز' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے ملک میں طاقت، وسائل اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اشرافیہ کا ایک محدود طبقہ ملک کے وسائل اور فیصلہ سازی پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 سے 40 ہزار بچے اے لیول کرتے ہیں، انہی بچوں کے والدین آج پاکستان کو کنٹرول کرتے ہیں اور آگے چل کر یہی بچے ملک کے اہم شعبوں میں بااثر عہدوں پر پہنچیں گے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایچیسن کالج لاہور، کراچی گرامر اسکول اور چند دیگر مخصوص اسکولوں اور کالجوں کو دیکھا جائے تو تقریباً 4 سے 5 ہزار بچے ایسے بنتے ہیں جنہیں پاکستان کی ایلیٹ کلاس کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی محدود طبقہ ملک کو کنٹرول کرتا ہے اور پاکستان کے وسائل پر بھی اس کا اثر و رسوخ ہے، جب کہ آج ان بچوں کے والدین طاقت اور وسائل کو کنٹرول کر رہے ہیں اور مستقبل میں یہی بچے اس نظام کو آگے بڑھائیں گے۔
سابق وزیر خزانہ نے پاکستان میں طبقاتی اور لسانی تقسیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اصل لسانی تقسیم پنجابی، سندھی، پشتو یا دیگر زبانوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ انگریزی بولنے والوں اور انگریزی نہ بول سکنے والوں کے درمیان ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں انگریزی بولنے کو قابلیت سمجھا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص مخصوص لہجے میں انگریزی بولتا ہو تو اسے زیادہ قابل تصور کیا جاتا ہے اور ایسے افراد کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طبقاتی نظام اس حد تک مضبوط ہے کہ امیر آدمی کا بیٹا امیر، سیٹھ کا بیٹا سیٹھ اور سیاستدان کا بیٹا سیاسی لیڈر بن جاتا ہے، جب کہ مختلف شعبوں میں بھی یہی سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات کامیاب نہ ہونے پر حافظ نعیم الرحمان نے ’حکومت گراؤ تحریک‘ کا عندیہ دے دیا
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تقریباً 90 فیصد لوگ متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور ایسے لوگوں کے لیے معاشرے میں اوپر آنے کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے بڑے عہدوں، وسائل اور مواقع ایک مخصوص طبقے تک محدود رہیں تو عام پاکستانی کے لیے ترقی اور خوشحالی کا راستہ کیسے کھلے گا؟
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم، زبان، طبقے اور خاندانی پس منظر کی بنیاد پر پیدا ہونے والی رکاوٹیں ختم کی جائیں تاکہ ملک کی اکثریت کو بھی آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر آسکیں۔







