امریکی سینیٹر رون وائیڈن کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے خطوط اور امریکی حکام کے بیانات کے مطابق یہ اقدام ایسی رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ تجارتی طور پر دستیاب لوکیشن ڈیٹا کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی فضائیہ نے سینیٹر رون وائیڈن کو بتایا کہ اس نے تقریباً دو ماہ قبل کمپیوٹرز اور موبائل فونز پر ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز غیر فعال کردی تھیں، جب کہ امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ نے اپنے ونڈوز ڈیوائسز پر یہ شناختی نظام حال ہی میں بند کرنے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی فوج نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ موبائل ڈیوائسز سے منسلک ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز رواں سال کے آغاز سے غیر فعال ہیں۔

فوج کے مطابق ونڈوز کمپیوٹرز پر یہ آئی ڈیز 2021 سے بھی پہلے بلاک کردی گئی تھیں، جب کہ اینڈرائیڈ اور ایپل موبائل ڈیوائسز پر انہیں کم از کم فروری 2026 سے بطورِ ڈیفالٹ غیر فعال کیا گیا ہے۔

سینیٹر رون وائیڈن کئی ماہ سے پینٹاگون پر اس معاملے پر اقدامات کے لیے زور دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اشتہاری صنعت کی جانب سے جمع کیا جانے والا اور ڈیٹا بروکرز کو فروخت ہونے والا لوکیشن ڈیٹا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ڈیٹا بروکرز ایسی کمپنیاں ہیں جو صارفین کا ذاتی ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کرکے اسے دوسروں کو فروخت کرتی ہیں۔

موبائل ایڈورٹائزنگ آئی ڈی جسے عام طور پر MAID کہا جاتا ہے، ایک منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے جس کے ذریعے موبائل ایپس پر صارف کی سرگرمی اور بعض صورتوں میں اس کے جسمانی مقام کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔

وائیڈن اور امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن پیٹ ہیریگن نے جمعے کو پینٹاگون کو خط لکھ کر اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا امریکی فوج نے لوکیشن ڈیٹا کی تجارت سے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طور پر تدارک کیا ہے یا نہیں۔

وائیڈن نے کہا کہ فوج کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے واضح ہے کہ یہ خطرہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، جب کہ پیٹ ہیریگن کا کہنا تھا کہ امریکا کے دشمنوں کو صرف رقم ادا کرکے ایسی معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہونی چاہیے جو امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں مدد دے۔

مزید پڑھیں: ایران کے معاملے پر میں نے درست فیصلہ کیا، ہم یہ جنگ پہلے ہی جیت چکے ہیں، صدر ٹرمپ

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فوج کی جانب سے موبائل فونز سے پیدا ہونے والے لوکیشن ڈیٹا کو محدود کرنے کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکام فوجیوں کے موبائل فون استعمال پر مزید سخت پابندیوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔

رواں سال جولائی میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کو اپنے موبائل فون جمع کرانے کا حکم دیا جاسکتا ہے، کیونکہ خدشہ تھا کہ ان کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی جانے والی موبائل ویڈیوز امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے میں ایران کی مدد کرسکتی ہیں۔

پرائیویسی اور ایڈ ٹیک ماہر زیک ایڈورڈز نے فوجی ڈیوائسز پر MAID غیر فعال کرنے کے اقدام کو مثبت قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں کو دیگر پیچیدہ طریقوں سے بھی ٹریک کیا جاسکتا ہے، مثلاً ڈیوائس کی تکنیکی معلومات کو نیٹ ورک یا دیگر لوکیشن ڈیٹا کے ساتھ ملا کر۔