مینگورہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے گزشتہ روز ہونے والی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کارکنوں کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں نے تاریخی جدوجہد کی ہے اور ملک بھر میں تحریک بڑھ رہی ہے، کراچی کے تاجروں نے ہڑتال کی بنیاد رکھی جب کہ اندرون سندھ کے تمام شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا بھر میں بھی کامیاب ہڑتال ہوئی جب کہ مالاکنڈ ڈویژن میں مکمل طور پر کاروباری سرگرمیاں بند رہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک عام لوگوں کی آواز ہے، حکمرانوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، دو وقت کی روٹی مشکل ہوچکی ہے، سفر کرنا دشوار اور بجلی کے بھاری بل عوام کے لیے بوجھ بن گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پر لیوی عائد کرکے قیمتیں آسمان پر پہنچا دی گئی ہیں، پیٹرول مہنگا ہونے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جب کہ ہر موٹرسائیکل سوار پٹرول پر 35 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ عوام کو لیوی کے بھتے کا علم نہیں تھا اور اس کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے عوام میں شعور پیدا کیا ہے، دو سال قبل آئی پی پیز کے خلاف دھرنا دیا تو عوام کو ریلیف ملا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ لوڈشیڈنگ زیادہ ہے اس لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کرنا پڑیں گے، لیکن بجلی بنانے والی کمپنیوں کے پیسے عوام سے لیے گئے جب کہ آئی پی پیز کے قرضے اور سود بھی عوام سے وصول کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1994 سے اب تک تمام آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز معاہدے کیے گئے اور آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے کے بھی پیسے دیے جاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوگ بچوں کی فیس ادا کرنے اور دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں جب کہ خواتین بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے زیور فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ جماعت اسلامی مسائل پر سیاست کرتی ہے، لاشوں پر نہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق آئی پی پیز کے خلاف مری روڈ پر 14 روزہ دھرنا دیا گیا، حکومت نے ابتدا میں انکار کیا تاہم بعد میں معاہدہ کیا۔ جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں بجلی کی قیمت میں 30 فیصد تک کمی ہوئی۔