لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں یونان کی سفیر ایلینی پوریکی اور صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یونانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور یونان کے درمیان باہمی تجارت میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں عملی اور بامعنی تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سفارتی مشنز تجارتی وفود، کاروباری تبادلوں اور روابط میں سہولت فراہم کرسکتے ہیں، تاہم ٹھوس کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نجی شعبے کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں ٹیکسٹائل، خصوصاً کپاس اور ٹیکسٹائل مصنوعات، اہم حیثیت رکھتی ہیں، تاہم تعاون کو سیاحت، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں تک وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

یونانی سفیر نے یونان میں پاکستانی کمیونٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑی تعداد میں پاکستانی مقیم اور مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق پنجاب سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونان میں پاکستانی افرادی قوت کی مسلسل ضرورت ہے، بالخصوص زراعت کے شعبے میں پاکستانی کارکنوں کی طلب موجود ہے جب کہ الیکٹریشنز، انجینئرز اور دیگر ہنرمند افراد کے لیے بھی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ایلینی پوریکی کا کہنا تھا کہ ہر سال ہزاروں پاکستانی کارکن یونان آ رہے ہیں اور پاکستانی افرادی قوت وہاں مختلف شعبوں کی ضروریات پوری کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

ملاقات میں سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ یونانی سفیر نے لاہور میں جاری ترقیاتی اور بحالی کے کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تقریباً 2010 کے اپنے سابقہ دورہ پاکستان کے مقابلے میں لاہور کے مرکزی علاقوں میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونان سیاحتی انفراسٹرکچر کے شعبے میں تجربہ اور مہارت رکھتا ہے، اس لیے متعلقہ اداروں اور نجی شعبے کے درمیان روابط قائم کرکے دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: خاندان کے ہمراہ کینیڈا منتقل ہونے کا موقع، پاکستانی کن شعبوں میں ملازمت حاصل کر سکتے ہیں؟

اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان اور یونان کو زراعت، کان کنی اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری ادارے یونان کی جدید ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربے سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

فہیم الرحمن سہگل نے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری وفود کے تبادلوں اور منظم بی ٹو بی ملاقاتوں کو فروغ دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری افراد کو مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر بین الاقوامی اقتصادی روابط اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان و یونان کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔