حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اطلاق 7 ستمبر 2026 تک ہوگا۔

دوسری جانب نیپرا نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کردی ہے۔

نیپرا کے مطابق جولائی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 2 روپے 6 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق ستمبر 2026 کے بجلی بلوں میں کیا جائے گا۔

ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں ملک بھر کے بجلی صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہوگا۔

نیپرا نے اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کا اطلاق ستمبر سے نومبر 2026 تک تین ماہ کے لیے ہوگا جبکہ کے الیکٹرک کے صارفین بھی اس اضافے سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے۔

نیپرا کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں بجلی صارفین پر مزید 12 ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

یوں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کو ملا کر بجلی صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 45 ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ منتقل ہوگا۔

ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اضافہ ستمبر کے بجلی بلوں میں جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے اضافی چارجز ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے بلوں میں شامل کیے جائیں گے۔

یعنی ایک طرف پیٹرول کی قیمت میں کمی ہوئی ہے تو دوسری طرف ڈیزل مہنگا ہونے کے ساتھ بجلی کے بلوں میں بھی اضافی چارجز شامل ہوں گے، جس سے عوام کو مہنگائی کے ایک اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔