ایک انٹرویو میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نےدبئی اور راس الخیمہ کے قریب سے ہیمرز میزائل سسٹم سے حملہ کیا۔ ایران ان حملوں کا جواب دےگا لیکن اس بات کا خیال رکھےگا کہ شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔
امریکا کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کے جواب میں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای حملے میں زخمی ہوئے ہیں، انہوں نے کہا وہ بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیےکھلا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی مشہور سکیورٹی چھتری دراصل جگہ جگہ سے چھلنی ثابت ہوئی ہے جو مسائل کو روکنے کے بجائے انہیں دعوت دیتی ہے۔ اب امریکا خود دوسروں سے حتیٰ کہ چین سے بھی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کی بھیک مانگ رہا ہے۔ ایران اپنے برادر ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کرتا ہےکہ وہ غیر ملکی جارح قوتوں کو نکال باہر کریں جنہیں صرف اسرائیل کی فکر ہے۔
یاد رہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کے ردِعمل کا غلط اندازہ لگایا، انہیں بتادیا تھا کہ ایران اس بار مختلف ردِعمل دے سکتا ہے ۔
انٹونی بلنکن نے کہا کہ پہلے ایران نے تحمل کا مظاہرہ کیا تو اس نے یہ سبق سیکھا کہ تحمل جارحیت کی دعوت دیتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ کے لیے مکمل منصوبہ بندی ہی نہیں کی ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، امریکا کی ناقص منصوبہ بندی کی علامت ہے۔
ادھر جرمن چانسلر نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کی واضح حکمتِ عملی نہیں ، ایران جنگ نے جرمنی کی توانائی کی قیمتوں پر شدید اثر ڈالا ۔







