مارکیٹ ذرائع کے مطابق بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ابتدائی سیشن کے دوران 3700 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 164,000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔ صبح تقریباً 9 بج کر 35 منٹ پر انڈیکس 164,322 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا، جو 3730 پوائنٹس یا 2.32 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مثبت رجحان امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں بہتری کی توقعات کے باعث سامنے آیا ہے، جس سے نہ صرف عالمی منڈیوں بلکہ مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مارکیٹ میں خریداری کا رجحان وسیع پیمانے پر مختلف شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکنگ، کھاد، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز نمایاں رہے۔ سرمایہ کاروں نے بڑی کمپنیوں کے حصص میں بھرپور دلچسپی دکھائی، جس سے مارکیٹ میں مجموعی طور پر مثبت فضا قائم ہوئی۔
نمایاں کارکردگی دکھانے والے حصص میں حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، مری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم، پاکستان اسٹیٹ آئل، حب پاور کمپنی، پاکستان ریفائنری اور اٹک ریفائنری شامل رہے، جہاں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پیر کے روز مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 6600 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ 160,591 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس مندی کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی تھی۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے 69 فیصد افراد وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت سے مطمئن، سروے
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ تیل کی قیمتوں اور محفوظ سمجھی جانے والی کرنسیوں کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت اور کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں مزید مثبت پیش رفت جاری رہی تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا یہ رجحان آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہ سکتا ہے،کسی بھی منفی خبر یا غیر یقینی صورتحال کی صورت میں مارکیٹ دوبارہ دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر سرمایہ کار اس وقت عالمی اور علاقائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔







