سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں جنگی صورتحال کو مزید سنگین ہونے سے روکنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، ممکنہ جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال رکھنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانےکے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو مزید تباہ کن صورتحال سے بچایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بعض معاملات پر نرم رویہ سامنے آیا ہے، تاہم کئی اہم نکات اب بھی تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر ممکنہ کنٹرول کے معاملات شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران سے متعلق سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کسی صورت ایران کو ایسا مواد رکھنے کی اجازت نہیں دے گا جو مستقبل میں عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کچھ مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہوگا، اگر ایران آبنائے ہرمز پر فیس یا سخت پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی جاری رکھتا ہے تو مذاکرات کامیاب ہونا مشکل ہو جائے گا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا خطے میں آزاد بحری تجارت چاہتا ہے اور آبنائے ہرمز کو عالمی آبی گزرگاہ سمجھتا ہے، جہاں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کیلئے ہے اور وہ اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ

یاد رہے کہ ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے کئی ممالک کی معیشتوں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو دنیا کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ  اگرچہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان موجود گہرے اختلافات کے باعث فوری معاہدے کے امکانات اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔