حافظ نعیم الرحمان نے قرآن پاک کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانوں کے دل بدلنے کی تحریک ہے اور اللہ سے رشتہ جوڑنے کی کتاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے بنیادی اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے اور اگر ریاست دین سے خالی ہو جائے یا ہمارا علم دین اور قرآن سے خالی ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
بین الاقوامی حالات پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کے ہمراہ ایران پر حملہ کیا ہے اور امریکہ خود بھی اس حملے کا مقصد واضح نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ صیہونی اثر و رسوخ میں ہے اور ایسے حالات میں فرقہ واریت کو ہوا دینے سے طاغوت کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے امت میں انتشار پھیلانے والوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے معاملے سے الگ ہو کر دین کی بات کرنے والا طاغوت کا نمائندہ ہے اور مسلمانوں کو ایسے عناصر کا آلہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدور بش، اوباما اور ٹرمپ مسلمانوں کی افطار پارٹیوں کے باوجود سب سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے داخلی سیاست پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کی طاقت کے ساتھ اقتدار میں آنا چاہتی ہے اور اسے اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اقتدار میں بیٹھنے والے عوام کی فکر نہیں کرتے، وزیر اعلیٰ کے لیے اربوں روپے کا طیارہ خریدا گیا اور چیئرمین سینیٹ کے لیے کروڑوں کی گاڑی خریدی گئی، جبکہ عوام پر پٹرول بم گرایا جا رہا ہے۔







