بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اعتماد سازی کے تحت کیا گیا، جبکہ عملے کو گزشتہ رات پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد اس کے اصل مالکان کے حوالے کرنے کے لیے پاکستانی سمندری حدود میں لایا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اس پورے عمل کو پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تعاون سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، اور پاکستان ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے جو خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بھی تصدیق کی کہ جہاز اور اس کے 22 ارکان پر مشتمل عملہ پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ چھ دیگر افراد کو پہلے ہی رہا کر کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے اس جہاز کو گزشتہ ماہ اس بنیاد پر قبضے میں لیا تھا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اور امریکی بحریہ کے احکامات کو نظرانداز کیا۔

دوسری جانب پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، جبکہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔