ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر رواں ہفتے پاکستان آ سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق واشنگٹن میں ایک صحافی نے میمفس سے وائٹ ہاؤس واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا نائب صدر ایرانیوں سے مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے اس سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارت کاری میں بعض معاملات کو خاموشی سے آگے بڑھایا جاتا ہے، اس لیے ذرائع ابلاغ کو امریکا-ایران مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں سے اجتناب کرے اور فیصلوں اور نتائج سے متعلق سرکاری اعلانات کا انتظار کرے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جامع مذاکرات کی میزبانی اور سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔