دفترِ خارجہ کے مطابق یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا، جب کہ انڈونیشیا سے آخری صدارتی دورہ 2018 میں صدر جوکو ویدودو نے کیا تھا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ رواں سال پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

دورۂ پاکستان کے دوران صدر پرابووو سوبیانتو وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے، جب کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی ان سے ملاقات کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوگی، جب کہ علاقائی اور عالمی سطح پر شراکت داری کے مزید استحکام پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس موقع پر متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے قریبی، خوشگوار اور دیرینہ نوعیت کے رہے ہیں جو مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات پر مبنی ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق صدر پرابووو کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا اہم موقع ثابت ہوگا۔